Loading...
Tinka Tinka Madhya Pradesh

पुस्तक समीक्षा: तिनका तिनका मध्य प्रदेश ( उर्दू )

 

 

َ کافی ٹیبل بکس

تنکا تنکا مدھیہ پردیس مبصر: عذرا نقوی

’’تنکا تنکا مدھیہ پردیس ‘‘ ایک انوکھی کافی ٹیبل بک ہے۔ عموماَ

 

کسی خوش کن ، خوبصورت موضوع پر ہوتی ہیں یا کاروباری چمک سے مزین ہوتی ہیں جن کی ہم شوقیہ ورق گردانی کرتے ہیں ۔ لیکن ڈاکٹر ورتیکا نندا نے ہندی میں یہ کافی ٹیبل بک پیش کی ہے جو جیل خانوں اور قیدیوں کی زندگی ،حسرتوں اور امیدوں کے وہ رنگ دکھاتی ہے جو ہماری نظروں سے اوجھل ہی رہتے ہیں

۔فوٹو گرافس ، جیلوں میں قیدیوں کے ذریعے کی گئی مصوری ، انٹرویوز اور تحریروں سے مزین ہے ۔یہ کتا ب ہمیں قید و بند کی کسی اور ہی دنیا سے روشناس

کراتی ہے۔ ڈاکٹر ورتیکا نندا ، ایک ادیبہ ہیں جو میڈیا کی تدریس سے وابستہ ہیں انھوں نے ہندستان کی جیلوں کے ریفام اور قیدیوں کی زندگیوں کو بامعنی بنانے کے لئے خودکو اور اپنے قلم کووقف کردیا ہے۔ اس ضمن میں تنکا تنکا فاونڈیشن کے تحت انھوں نے کئی کتابیں شائع کی ہیں ۔ دس کتابوں کی مصنف ہیں،بہت سے اعزازات سے نوازی گئی ہیں۔ فی الحال لیڈی شری رام کالج میں صحافت کے شعبے کی

صدر ہیں۔ پہلے لوک سبھا ٹی وی میں پروڈیوسر بھی رہی ہیں۔ اس سے پہلے جیلوں

سے متعلق ان کی کتابیں۔ ’’تنکا تنکا ڈاسنہ‘‘ ، ’’ تنکاتنکا تہاڑ‘‘ کافی شہرت حاصل

کرچکی ہیں۔ ان کاموں کے سلسلے میں ورتیکا نندا دو بار لمکا بکس آف ریکارڈ

میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر ورتیکا نند ا لکھتی ہیں کہ جیلوں کے بغیر سماج نہیں پر جیلیں جرموں کے ہر سوال ک جواب بھی نہیں ہیں۔ جیلوں کی موجودگی سے جرموں کا خاتمہ ہوا ہو ایسا بھی نہیں ہے۔ اور جو جیلوں میں ہیں ، وہ سبھی مجرم ہی ہوں ، ایسا بھی کوئی

ثبوت نہیں ہے۔اس لئے دنیا کی ہر جیل سماج سے کٹا ایک جزیرہ ہے جہاں سے سوال جھانکتے ہیں۔ یہاں ٹہرا ہوا وقت ہے ، ٹھٹکا ہوا حال ہے ، اور ٹھٹھرتا ہوا

مستقبل ہے۔ ان سب کے بیچ تنکوں کی امیدیں ہیں۔ ان جیلوں میں تو و ہ ہیں جن کی

پہچان کا آدھار کارڈ ہی کھو گیاہے۔جیلیں جانتی ہیں کہ نئی پہچان کا پیرہن اوڑھنے میں کئی بارپوری عمر بیت جاتی ہے۔ پھر پیرہن آئے گا کہاں سے اور کہاں سے

ملے گی اپنی چھوٹی ہوئی تصویر جو کسی البم میں پیلی پڑچکی ہے ؟

 

ورتیکا نندا لکھتی ہیں کہ اس کتاب کا ہر صفحہ آپ کو جیل کے اس چہرے سے  ملوائے گا جو کافی حد تک انجانااور ان چھوا ہے۔ رنگوں ، کویتاؤں اور کھلے لفظوں کے ذریعے یہ کتا ب جیلوں کے سبھی تہہ خانوں کو کھولتی ہوئی اس کی چابی کو آپ کے ہاتھ میں دے رہی ہے ۔ آپ چاہیں تو یہاں دئیے رکھ دیں ،یہ کتاب

اسی اوپری شکتی کے نام ہے جس کے پاس دعاؤں کی کترنیں سرکتے ہوئے پہنچا

ضر ورکرتی ہیں۔وہ دکھتی نہیں پر موجود رہتی ہے اور بھر پور اثر کرتی ہے۔ اس کتاب میں استعمال کئے گئے سبھی نقش حقیت ہیں ،اس کے قصہ گو بھی انوکھے ہیں۔وہ یا توقیدی ہیں یا پھر کسی مجبوری میں ماں کے ساتھ جیل میں

دھکیلے گئے بچے ۔ اس کتاب کی تیاری کے دوران مصنفہ نے مدھیہ پردیش میں بھوپال ، اندور، اجین، مہیشوراور گوالیار سمیت سبھی اہم جیلوں کا دورہ کیا۔جیل سے جڑے ہر سطح کے کرمچاریوں سے انٹر ویو ہوئے۔بھوپال جیل کے پہریدار

شلیندر نام دیو کی مدد سے انھوں نے جیلوں کی تقریباََ ہر ضر وری نقش کو کاغذ

پر اتارا ہے۔ شیلندر نے 2015 میں جیلوں پر پی ایچ ڈی کی تھی۔ پھر وہ دستاویز

اسکے اپنے ہی کاغذوں میں چھپ گئی ۔ شاید وہ خود نہیں جانتا تھاکہ کالج کی نوکری کے لئے کیا گیا یہ کام کیا رنگ الئے گا۔ انتظامیہ نے شیلندر کو ورتکا کے

ساتھ تقریباََ ہر دورے پر بھیجا۔

اس تاریخی دستاویز پر کام ایک خالی کاغذ پر پنسل سے مبہم سے نقوش بناتے بناتے شروع ہوا۔ یہ طے ہوا کہ اس میں رنگ بھرنے کا کام بھلے ہی قیدی کریں

گے لیکن پہلے جو نقش ابھارنے ہیں اس کے کچے خاکے کو کاغذ پر اتارنا ہوگا۔ مصنفہ پنسل سے کچھ نقش بناتی گئیں ، خاکہ بنتا چال گیا۔پھر ان کاغذوں کو مختلف جیلوں میں پینٹ کرنے والے قیدیوں کو سونپا گیا۔ جیلوں نے انھیں وہ سبھی رنگ دئے جو س طرح کی کتاب کے لئے مناسب تھے۔ ساتھ ہی دئیے کا غذ ، قلم اور دی

بار بار ہمت کہ وہ خالی کینوس کو بھر دیں ۔ جیلوں کی اس کہانی کواس کتاب میں نو حصوں میں بانٹا گیا ہے

1۔ رنگوں کا بائیسکوپ۔تصویروں میں تقدیر: رنگوں اور شبدوں کے ذریعے جیلوں کی کہانی :کتاب کے اس پہلے حصے میں وہ تصوریریں ہیں جو عمر قید کے بارہ مرد قیدی ، دو عورتیں سیاسی قیدی۔ اور چار بچوں جو ماں باپ کے جرم کی وجہ سے غیر اعالنیہ قیدی کہالتے ہیں انھوں نے، اور ایک جیل کے محافظ نے بنائی

 

ہیں ۔ان تصاویر میں جیل کی مختلف جگہیں اورروزانہ کے کام کاج کے منظر دکھائے گئے ہیں اور کچھ سادے سے لفظوں میں ان مناظر کا بیان ہے جو دل میں اترجاتا ہے ۔ان تصاویر میں جیل کا صدر دوازہ ہے، قیدی کے پہلی بار اندر داخل ہونے کا منظر ہے ،تالشی ، جیلر کے کمرے ،عورتوں کی جیل ،تالے، پرارتھنا

سبھا اور رسوئی وغیرہ کے مناظر شامل ہیں ۔ 2۔ کارا گار کی کاریگری ، مدھیہ پردیس کی جیلوں کی میں کام اور قومی تعمیر :اس میں جیل کے وہ تصویریں ہیں جن میں جیل میں جو کام کئے جاتے ہیں جوہنر سکھائے اور آزمائے جاتے ہیں ان کے بارے میں معلومات ہوتی ہے۔ سالئی ،لکڑی کاکام،جلد سازی،چمڑے کا کام، برتن بنانا ۔کمپیوٹر ، بیوٹی پارلر کی،گڑیا بنانے کی ٹریننگ ۔چھپائی کا کام۔دئیے اور مورتی بنانا۔گؤ شالہ۔ باغبانی۔ ریڈیو اسٹیشن، گؤ

شالہ وغیرہ کے منظر ہیں۔جو ایک عام آدمی کے لئے ان دیکھے ہی ہیں۔ 3۔ بچے جن کا پتہ ہے جیل،اگھوشت اپرادھی:کتاب کے اس حصے میں ان بچوں کی زندگی کی جھلک ہے جو جو اپنے ماں باپ کے جرم کی وجہ سے ان کیساتھ

جیل میں رہ رہے ہیں ۔ وہی ان کا گھر ہے۔مدھیہ پردیش کی جیلوں میں ایک سو

پچاس بچے رہ رہے ہیں۔دیس کی جیلوں میں 1865ایسے بچے ہیں۔ان پینٹنگس کے ساتھ جو عبارت اور پروفائیل دئے ہیں وہ ا داس بھی کردیتے ہیں اور دل موہ بھی

لیتے ہیں۔ 4۔ لکھتی ہیں جیلیں ۔ قید خانے میں قلم کا کمال:جیلوں کے ساتھ ادب اور راشٹر واد کا رشتہ بہت پرانا ہے ۔ مہاتما گاندھی اور بھگت سنگھ سے لے کر آسکر وائلڈ اور دوستوسکی تک جیلوں میں قلم نے اپنا کمال دکھایا اس کتاب میں کچھ مشہور نام

شامل ہیں۔ سبھدر اکماری چوہان، آزادی کی جد وجہد میں عدم تعاون کی تحریک میں

شامل ہونے کی وجہ سے دو بار جبلپورکی سینٹرل جیل میں تقریباَ ایک سال رہیں ۔ اسی جیل میں پنڈت ماکھن الل چترویدی اور کا کا کالیکر بھی رہے تھے ، بھوانی

پرساد مشربیتول کی جیل میں رہے تھے ۔

 

 

۵۔ ماضی سوختی سالخیں ۔تنکا تنکا اتہاس ،مدھیہ پردیس کی تاریخی جیلیں : مدھیہ پردیس کی ایک تہائی جیلیں 75 سال پرانی ہیں۔بیتول کی جیل دو سو سال پرانی ہے اور اس میں بزرگ قیدیوں کو رکھا جاتا تھا ۔ اور ان سے کپاس کی دھالئی کراوئی

 

جاتی تھی۔ اسی جیل میں نیتا جی سبھاش چندر بوس دو سال قید رہے اب جیل کا نام  نیتا جی سبھاش چندر بوس کے نام پر ہی رکھدیا گیا۔نرسنگھ پور جیل جس میں 157مجاہد آزادی قید تھے۔ انیس سو بتیس میں اس جیل کو ختم کرکے ہوشنگ آباد جیل میں شامل کردیا گیا ۔بھوپال کی جیل نواب شاہ جہاں بیگم کے دور میں1895

بنی تھی۔آزادی کے مجاہدوں کی ایک بڑی تعداد اس جیل میں رہی ہے۔ ڈاکٹر شنکر دیال شرما، عبدل الرحمان عبد روؤف خان، عنایت ہللا خان فتح ہللا خان۔فضل علی حشمت علی سرور ، شاکر علی خان وغیرہ۔ا ب اس جیل میں مدھیہ پردیس جیل کا صدر دفتر ہے اور باقی حصہ اب تقریبا بند کردیا گیا ہے۔سن دو ہزار اٹھارہ میں

سنجے دت کی ایک فلم کی شونٹگ اسی جیل میں ہوئی تھی۔

6۔مٹھی میں کاش ، سامنے بڑا آکاش ۔۔کتاب کا یہ حصہ جیلوں کے اس دروازے کو

کھول رہا ہے جہاں مالل کی لکیر کھنچی ہے۔ اس حصے میں آٹھ عورتوں اور مردوں کا مختصر پروفائیل ہے اور ان کی ہی زبانی اپنی زندگی کا پچھتاو ہ ہے کہ کاش انھوں نے جو کچھ کیا وہ نہ کیا ہوتا اور اس کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لئے

خواہش بھی درج ہے ، یہ مختصر تحریریں اپنی جگہ ایک مکمل کہانی کہتی ہیں۔ 7۔ قید میں قلم ، کوچی ، کال کار : وہ فنکار جنھوں نے اس پار بیٹھ کر رچا اتہاس :دو آنکھیں چھتیس ہاتھ۔ اس میں بھوپال کی سینڑل جیل سے آٹھ ،اجین سے دو

،اندور سے ایک اورگوالیار سے تین قیدیوں نے تنکا تنکا مدھیہ پردیس کی اس کتاب کیلئے تصویریں بنائی ۔ ان سب فنکاروں کے نام فوٹو اور پروفائیل اس کتاب میں

شامل ہیں۔ 8۔ ایسے جڑے تنکے : چپے چپے کو کھنگالتے ہوئے ،کیسے لکھی گئی یہ کہانی : مدھیہ پردیس سرکار کی طرف سے جیلوں کو بار بار دیکھنے کی اجازت ملنے کی وجہ سے یہ کتاب ویسی شکل لے پائی جیسی مصنفہ کی تمنا تھی ۔جون 2017 ؁ء میں مدھیہ پردیس جیلوں کے کئی کھلے اور بند حصوں کی تصویریں لی گئیں۔کاغذوں پر بنائے گئے کچے خاکے اور قیدیوں کو دکھائے گئے۔مصور قیدیوں

کی پہچان کی گئی۔جیل انتظامیہ نے انھیں رنگ دئے۔جیلروں نے قیدیوں کی ہمت

بندھائی ۔ہاں ایک بات تھی ایک اور چنوتی تھی کہ رنگ بھرنے والے سبھی مرد  تھے۔ اس زندگی میں رنگوں قریب رہنے والی عورتوں نے جیل کے اندر رنگوں سے جیسے اپنا ناطہ توڑرکھاتھا۔ ہر عورت سے درخواست کی گئی کہ وہ چاہے تو

 

اپنی بے دم ہوگئی کانچ کی چوڑی کی ہی کوئی تصویر بنا دے کیا پھر آلتے سے

اپنے ہاتھ یا پاؤں کی چھاپ ہی بنا دے ۔بچوں سے چھوٹی چھوٹی گفتگوکی جھلکیاں جو اس کتاب میں پیش کی گئی ہیں وہ ان بچوں کی زندگی کی پراثر عکاسی کرتی

ہیں۔

. 9۔تہاڑ سے بھوپال تک تنکا تنکا یاترا: دلی کی تہاڑ جیل ، اتر پردیس کی ڈاسنہ ، آگرہ جیل سے ہوتے ہوئے مدھیہ پردیس تک تنکا تنکا ۔کتاب کے اس حصے میں تنکا تنکا کے جیلوں اور قیدیوں سے متعلق کاموں اور اشاعتوں کی تفصیل ہے کہ میڈیا نے کس طرح اس کام کی تشہیر اور اعتراف کیا اور کس طرح اڈکٹر ورتیکا

نندا کی پذیرائی کی گئی اسے اخباروں کے تراشوں کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔ اس

حصے میں ان لوگوں کے نام اور تصاویر ہیں جو اس کام میں معاون رہے۔ مجموعی طور پر یہ ایک انوکھی، دلچسپ اور ذہن و دل کو متاثر کرنے والی کتاب

ہے۔

पुस्तक समीक्षक: अज़रा नक़वी

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Editor's choice